فهرس الكتاب

الصفحة 3530 من 6346

یعنی جب ان کی کشتیاں ایسی طوفانی موجوں میں گھر جاتی ہیں جو بادلوں اور پہاڑوں کی طرح ہوتی ہیں اور موت کا آہنی پنجہ ان کو اپنی گرفت میں لیتانظر آتاہے تو پھر سارے زمینی معبود ان کے ذہن میں سے نکل جاتے ہیں اور صرف ایک آسمانی الٰہ کو پکارتے ہیں جو واقعی اور حقیقی معبود ہے۔ (احسن البیان)

مُّقْتَصِد کے دومفہوم: (۱) اعتدال پر قائم رہنے والا (۲) عہد کو پورا کرنے والا، یعنی بعض ایمان، توحید اور اطاعت کے اس عہد پر قائم رہتے ہیں جو موج گرداب میں انہوں نے کیاتھا۔ جیساکہ عکرمہ رضی اللہ عنہ بن ابوجہل کے متعلق سورۃ الانعام کی آیت نمبر۴۱ کے حاشیہ میں لکھاجا چکاہے۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ دہریے لوگ بھی اللہ سے انکار اور اللہ کے اقرار کی درمیان کی سطح پر آجاتے ہیں۔ کٹرمنکر نہیں رہتے ۔ یہی حال مشرکوں کاہوتاہے وہ اپنے معبودوں کی حاجت روائی اور مشکل کشائی کے بارہ میں شک میں پڑ جاتے ہیں یعنی مشرکوں کااپنے معبودوں پر پورا اعتقادنہیں رہتا۔

عہد شکن اور ناشکرے:

جن لوگوں کی عادت ہی یہ ہو کہ خواہ ان پر انعامات کی کس قدر بارش کردی جائے انہوں نے شکر ادا کرنا یا احسان مان لینا سیکھاہی نہ ہو ایسے لوگ خطرہ ٹل جانے کے بعد پھر اپنے سابقہ طرز زندگی، یعنی کفر و شرک اور دہریت کی طرف پلٹ جاتے ہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت