فهرس الكتاب

الصفحة 811 من 6346

اس آیت سے شرک کی جڑ کٹ جاتی ہے کیونکہ جس انسان کا یہ عقیدہ پختہ ہوجائے کہ دکھ درد دو ر کرنے والا اور فائدہ پہنچانے والا صرف اللہ ہے تو وہ کسی دوسرے کو کیوں پکارے گا اور اس کی نذرونیاز کیوں دے گا؟ کیونکہ انسان جب بھی شرک کرتا ہے تو انہی دو باتوں کے لیے (۱) فائدے کا حصول۔ (۲) دفع مضرت۔ سورۂ فاطر میں فرمایا! اللہ جس کے لیے رحمت کا دروازہ کھول دے اُسے کوئی بند کرنے والا نہیں اور اگر وہ بند کردے تو کوئی کھولنے والا نہیں۔ ایک حدیث میں آتا ہے کہ: جس کو تو دے اس کو کوئی روکنے والا نہیں اور جس سے تو روک لے اس کوکوئی دینے والا نہیں۔ اور کسی صاحب حیثیت کو اس کی حیثیت تیرے مقابلے میں نفع نہیں پہنچا سکتی۔ (بخاری: ۸۴۴) نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز کے بعد یہ دعا پڑھا کرتے تھے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت