فهرس الكتاب

الصفحة 2650 من 6346

ان کے دل اس بات سے سہم جاتے ہیں کہ کوئی کام اللہ کی مرضی اور منشا کے خلاف سرزد ہو جائے شرکیہ افعال بجا لانا تو بڑی دور کی بات ہے۔ اس آیت میں مصیبت پر صبر کرنا، نماز کے قیام اور خرچ کرنے کا ذکر اس لحاظ سے ہے کہ سفر حج میں عموماً تکلیفیں بھی آتی ہیں، نمازوں کے قضا ہونے کا بھی اندیشہ ہوتا ہے۔ اور خرچ بھی خاصا اُٹھتا ہے لیکن جن کے دل نرم اور خوف الٰہی سے پر ہوتے ہیں وہ کٹھن کاموں اور حکم الٰہی کے پابند ہیں مصیبتوں پر صبر کرتے ہیں، فریضہ الٰہی اور اللہ کا حق ادا کرنے والے ہیں۔ اور اللہ کے دیے ہوئے سے خرچ کرتے ہیں۔ اپنے گھر والوں کو، فقیروں محتاجوں کو، اور تمام مخلوق کو جو بھی ضرورت مند ہوں، سب کے ساتھ سلوک و احسان سے پیش آتے ہیں۔ اللہ کی حدود کی حفاظت کرتے ہیں منافقوں کی طرح نہیں کہ ایک کام کریں اور ایک چھوڑ دیں، لہٰذا فرما دیا کہ اللہ کے حضور متواضع رہنے والوں میں یہ سب خوبیاں موجود ہوتی ہیں۔ یہ مطلب تو ربط مضمون کے لحاظ سے ہے تاہم ان کا حکم ہر حالت میں عام ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت