فهرس الكتاب

الصفحة 562 من 6346

اس آیت میں انہی نافرمانوں کے رویے کی طرف اشارہ کرکے کہا جارہا ہے جو رسول اللہ کا فیصلہ قبول کرنے پر آمادہ نہیں کہ اگر ہم کسی بنا پر ان پر قتل واجب کردیتے جیسا کہ بچھڑا پوجنے والوں پر واجب کیا تھا، یا اپنے گھروں سے نکل جانے یا ہجرت کرنے کو کہتے تو اس قسم کی قربانیوں پر یہ کیسے عمل کرسکتے تھے۔ اگر یہ اللہ اور رسول اللہ کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم کردیتے، تو اللہ تعالیٰ تو بہت شفیق اور مہربان ہے۔ اس کے احکامات بھی آسان ہیں۔ اس لیے اگر وہ ان حکموں پر چلیں جس کی انھیں نصیحت کی جاتی ہے تو یہ ان کے لیے بہتر اور ثابت قدمی کا باعث ہوتا کیونکہ اطاعت سے ایمان مضبوط ہوتا ہے۔ اور نافرمانی سے کم۔ نیکی سے نیکی کا راستہ کھلتا ہے، اور بدی سے بدی پیدا ہوتی ہے۔ غرض ایمان اور عمل صالح سے راستہ کشادہ اور آسان ہوتا ہے۔ اسلام انسان سے یہی چاہتا ہے کہ وہ اللہ کی اطاعت میں اپنے آپ کو مٹا دے، اور انسان اپنے نفس کے پیچھے لگ کر صراط مستقیم گم کردیتا ہے، اپنے آپ پر ظلم کرتا ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت