فهرس الكتاب

الصفحة 24 من 6346

تجارت سے مراد ہدایت چھوڑ کر گمراہی اختیار کرنا ہے جو سراسر گھاٹے کا سودا ہے۔ منافقین نے نفاق کا جامہ پہن کر یہی گھاٹے والی تجارت کی، ضروری نہیں کہ انھیں دنیا میں ہی اس گھاٹے کا علم ہوجائے بلکہ دنیا میں تو جو ان کو فوری فائدے ہوتے تھے وہ اس پر بڑے خوش ہوتے تھے یعنی مسلمانوں سے مل گئے تو مال غنیمت حاصل کرلیا، اور اپنے شیطانوں سے ملتے تو ان سے فائدے اٹھالیے، اور اِسی بنا پر وہ اپنے آپ کو بڑے دانا اور مسلمانوں کو عقل و فہم سے عاری سمجھتے تھے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت