فهرس الكتاب

الصفحة 876 من 6346

اس آیت میں ظلم سے مراد شرک ہے ایک حدیث میں آتا ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو صحابہ رضی اللہ عنہم نے ظلم کا عام مطلب، (کوتاہی، غلطی گناہ، زیادتی وغیرہ) سمجھا جس پر وہ پریشان ہوگئے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ ہم میں سے کونسا ایسا ہے جس نے کبھی ظلم نہ کیا ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں بتایا کہ یہاں ظلم شرک کے معنی میں استعمال ہوا ہے جیسا کہ سورۃ لقمان میں آیاہے کہ لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ بیٹا کبھی شرک نہ کرنا کیونکہ شرک سب سے بڑا ظلم ہے۔ (مسلم: ۱۲۴، بخاری: ۴۶۲۹) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: '' شرک کے اثرات سے بچو''لوگوں نے پوچھا وہ کیا ہے؟ فرمایا: ''ریاکاری''، قیامت کے دن اللہ فرمائے گا، ان لوگوں کے پاس جاؤ جن سے تم دنیا میں مانگتے تھے، جس نے دکھاوے کا کام کیا قیامت کے دن اللہ اس دکھاوے کو دکھا دے گا۔ (ابن حاتم: ۳/ ۱۰۵)

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت