فهرس الكتاب

الصفحة 478 من 6346

اس آیت میں یہود کی ایک اور بات کی تکذیب کی جارہی ہے وہ کہتے تھے کہ اللہ نے ہم سے یہ عہد لیا ہے کہ تم صرف اس رسول کو ماننا جس کی دعا سے آسمان پر سے آگ آئے اور قربانی و صدقات کو جلا ڈالے۔ مطلب یہ تھا کہ اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) آپ کے ذریعے سے چونکہ اس معجزے کا صدور نہیں ہوا، اس لیے بحکم الٰہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت پر ایمان لانا ہمارے لیے ضروری نہیں ہے۔ حالانکہ پہلے نبیوں میں ایسے نبی بھی آئے جن کی دعا سے آسمان سے آگ آتی اور اہل ایمان کے صدقات اور قربانیوں کو کھاجاتی تھی جو اس بات کی دلیل ہوتی تھی کہ اللہ کی راہ میں پیش کردہ صدقہ یا قربانی بارگاہ الٰہی میں قبول ہوگئی ہے اور اس بات کی دلیل بھی ہوتی کہ یہ نبی برحق ہے۔ اب یہود سے سوال کیا جارہا ہے کہ اگر تمہارے نزدیک کسی نبی کے برحق ہونے کا یہی معیار ہے تو پھر جن انبیاء کو یہ معجزہ دیا گیا تھا انھیں تم نے کیوں قتل کیا تھا۔ حضرت یحییٰ کو ان یہود نے قتل کردیا تھا۔ اس کے علاوہ بھی کئی انبیاء جنھیں یہ معجزہ دیا گیا تھا یہود نے انھیں قتل کیا تھا۔ دراصل یہ نبی آخرالزماں پر ایمان نہ لانے کا ایک بہانہ تھا۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ یہود اپنے وعدے کے کتنے پابند تھے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت