فهرس الكتاب

الصفحة 4604 من 6346

واضح دلیل سے مراد صاف رستہ ہے جو وحی الٰہی کی روشنی میں پوری طرح نظر آ رہا ہو یعنی جو شخص دین خدا میں یقین کے درجے پر پہنچ چکا ہو۔ جسے بصیرت حاصل ہو چکی ہو۔ اس کے پاس ہدایت اور علم بھی ہو۔ اور دوسرے کے پاس وہم و گمان کی تاریکیاں ہی تاریکیاں ہوں جو اپنی خواہش نفس کے پیچھے پڑا ہوا ہو۔ کیا یہ دونوں برابر ہو سکتے ہیں جیسا کہ سورہ رعد ۱۹ میں فرمایا کہ: {اَفَمَنْ يَّعْلَمُ اَنَّمَا اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ الْحَقُّ كَمَنْ هُوَ اَعْمٰى} ''یہ نہیں ہو سکتا کہ خدا کی وحی کو حق ماننے والا اور ایک اندھا برابر ہو جائے۔'' سورہ حشر میں فرمایا کہ: {لَا يَسْتَوِيْ اَصْحٰبُ النَّارِ وَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ هُمُ الْفَآىِٕزُوْنَ} ''جنتی اور جہنمی برابر نہیں ہو سکتے۔ جنتی کامیاب اور مراد کو پہنچتے ہوئے ہیں۔''

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت