فهرس الكتاب

الصفحة 902 من 6346

صبر سے کام لو اور غصہ میں آکر ان کے معبودوں کو برا بھلا نہ کہو، ورنہ ردِ عمل کے طور پر وہ تمہارے معبود حقیقی اللہ کو گالیاں دینا شروع کردیں گے اور بالواسطہ تم خود ہی گالی دینے کا سبب بن جاؤ گے۔

بڑے فتنے سے بچنے کے لیے چھوٹا فتنہ گوارا کرلینا چاہیے:

جب کسی بڑے فتنہ میں مبتلا ہونے کا خطرہ ہو تو اس سے بچنے کے لیے چھوٹے فتنہ کو گوارا کرلینا چاہیے۔ اس کی واضح مثال یہ ہے کہ مکہ میں کچھ لوگ اپنی کمزوری ایمان کی وجہ سے ہجرت نہیں کر پارہے تھے۔ اور مشرکین مکہ کے پاس ہی پناہ لیے ہوئے تھے۔ جب ان مشرکوں کی مسلمانوں سے جنگ ہوتی تو مشرک ان لوگوں کو اپنی فوج کے آگے کردیتے۔ اب اگر مسلمانوں کی فوج ان مسلمانوں کو مارے تو قتل کی مجرم ہوتی ہے۔ اور نہ مارے تو مسلمان مرتے ہیں ایسی صورت میں ان مسلمانوں کو مار دینا ہی بہتر ہے اور اللہ نے ہجرت نہ کرنے والے مسلمانوں پر سخت نکیر فرمائی ہے۔ حافظ عبدالرزاق قتادہ سے روایت کرتے ہیں کہ ''مسلمان کفار کے بتوں کو بُرا بھلا کہتے تھے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔''

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت