فهرس الكتاب

الصفحة 31 من 6346

توحید کے اثبات كے بعد اب اس آیت میں رسالت كے اثبات كا بیان ہے کہ یہ کتاب وہ نہیں جس میں تم شک کرتے ہو اور کہتے ہوکہ اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود گھڑلیا ہے، کبھی کہتے ہو کہ جادو گر یا کاہن کا کلام ہے اور كبھی اسے کسی دیوانے کا یا شاعر کا کلام بتلاتے ہو۔ بات دراصل یہ ہے کہ یہ لوگ خدا پر ایمان نہیں رکھتے اگر یہ سچے ہیں تو ایسا کلام بنا لائیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: {اَمْ خَلَقُوْا مِنْ غَیْرِ شَیْئٍ اَمْ ہُمُ الْخَالِقُوْنَ} (الطور: ۳۵) ''یا وہ کسی چیز کے بغیر ہی پیدا ہوگئے ہیں، یا وہ (خود) پیدا کرنے والے ہیں؟''دراصل بات یہ ہے کہ جو لوگ حق کو ماننا نہیں چاہتے وہ اعتراض کرنا شروع کردیتے ہیں۔

قرآن کی حقانیت:

یہ قرآن وہ چیز نہیں ہے جسے اللہ کی وحی و تعلیم کے بغیر خود سے بنا لیا جائے، بلکہ یہ تو جو کچھ پہلے نازل ہو چکا ہے اس کی تصدیق كرنے والا اور ''الکتاب'' کی تفصیل ہے اس میں شک نہیں یہ فرمانروائے کائنات کی طرف سے ہے۔

ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {قُلْ لَّىِٕنِ اجْتَمَعَتِ الْاِنْسُ وَ الْجِنُّ عَلٰۤى اَنْ يَّاْتُوْا بِمِثْلِ هٰذَا الْقُرْاٰنِ لَا يَاْتُوْنَ بِمِثْلِهٖ وَ لَوْ كَانَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ظَهِيْرًا} (الاسرا: ۸۸) ''کہہ دیجئے اگر سب انسان اور جن جمع ہوجائیں کہ اس قرآن جیسا بنا لائیں تو اس جیسا نہیں لائیں گے، اگرچہ ان کا بعض بعض کا مددگار ہو۔'' رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کی مثل لے آنے كا چیلنج دیا لیکن كسی كو جرأت نہ ہوئی۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: {اَمْ يَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ1 قُلْ فَاْتُوْا بِعَشْرِ سُوَرٍ مِّثْلِهٖ مُفْتَرَيٰتٍ وَّ ادْعُوْا مَنِ اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ} (ھود: ۱۳) ''یا وہ کہتے ہیں کہ اس نے اسے گھڑ لیا ہے۔ کہہ دے پھر اس جیسی دس سورتیں گھڑی ہوئیں لے آؤ اور اللہ کے سوا جسے بلاسکتے ہو بلالو، اگر تم سچے ہو۔''اس آیت میں جھنجھوڑا گیا، پھر بھی سانس نہ نکلی ، بالآخر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن پاک کی سب سے چھوٹی سورۃ ''الکوثر'' لکھواکر دستور کے مطابق باب کعبہ پر لٹکادی جوکئی روز تک لٹکتی رہی۔ مگر سب کو گویا سانپ سونگھ گیا بالآخر کسی بڑے شاعر نے اس کے آخر میں '' ما ھذا من كلام البشر'' کا اضافہ کرکے اپنے عجز کا کھلا اعتراف کرلیا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت