فهرس الكتاب

الصفحة 2664 من 6346

چونکہ کفار عذاب مانگا کرتے تھے اور اس کی جلدی مچاتے رہتے تھے اس کے جواب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہلوایا جا رہا ہے کہ لوگو میں تو اللہ کا بھیجا ہوا آیا ہوں کہ تمہیں رب کے عذابوں سے چوکنا کر دوں تمہارا حساب میرے ذمے نہیں، عذاب اللہ کے اختیار میں ہے چاہے اب لائے چاہے دیر سے لائے، مجھے کیا معلوم کہ کس کی قسمت میں ہدایت ہے اور کون اللہ کی رحمت سے محروم رہنے والا ہے، چاہت اللہ ہی کی پوری ہونی ہے حکومت اسی کے ہاتھ میں ہے، کسی کو اس کے سامنے چوں وچراں کرنے کی مجال نہیں، وہ بہت جلد حساب لینے والا ہے، میں تو صرف آگاہ کرنے والا ہوں، اور جن لوگوں کے دلوں میں یقین وایمان ہے اور اس کی شہادت ان کے اعمال سے بھی ملتی ہے، ان کے کل گناہ معافی کے لائق اور کل نیکیاں قدر دانی کے قابل ہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت