فهرس الكتاب

الصفحة 2290 من 6346

یعنی زچگی کے درد سے بے تاب ہو کر اٹھیں اور ایک کھجور کے تنے کا سہارا لیا ایک تو درد زہ کی شدت کی تکلیف، دوسرے تنہائی و بے کسی۔ تیسرے اشیائے خوردنی اور دیگر ضروریات کا فقدان، حتیٰ کہ پانی تک موجود نہ تھا۔ اور سب سے زیادہ پریشان کن بات آئندہ کی بدنامی اور رسوائی کا تصور تھا۔ ان سب باتوں سے اس قدر پریشان ہوئیں کہ بے اختیار منہ سے یہ الفاظ نکل گئے کاش میں آج سے پہلے مر چکی ہوتی اور لوگوں کے حافظہ سے بھی اتر چکی ہوتی۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت