فهرس الكتاب

الصفحة 4359 من 6346

اوپر آیات میں ذکر تھا کہ قیامت کے دن بڑے ہیبت ناک واقعات ہوں گے وہ سخت مصیبت کا دن ہو گا اور اب یہاں اس سے ڈرایا جارہا ہے اور اس کے لیے تیار رہنے کو فرمایا جا رہا ہے کہ اس اچانک آ جانے والے دن سے پہلے ہی پہلے اللہ کے فرمان پر پوری طرح عمل کر لو۔ جب وہ دن آ جائے گا تو تمہارے لیے ایسی کوئی جگہ نہیں ہو گی کہ جس میں تم چھپ کرانجان بن جاؤ اور پہچانے نہ جا سکو یا نظر میں نہ آ سکو۔ جیسا کہ سورہ القیامہ میں ارشاد ہے کہ: {يَقُوْلُ الْاِنْسَانُ يَوْمَىِٕذٍ اَيْنَ الْمَفَرُّۚ۔كَلَّا لَا وَزَرَ۔اِلٰى رَبِّكَ يَوْمَىِٕذِ ا۟لْمُسْتَقَرُّ} ''اس دن انسان کہے گا، کہیں بھاگنے کی جگہ ہے، ہرگز نہیں، کوئی راہ فرار نہیں۔ اس دن تیرے رب کے پاس ہی ٹھکانہ ہو گا۔''

نکیر بمعنی انکار کے ہے:

کہ تم اپنے گناہوں کا انکار نہ کر سکو گے کیوں کہ ایک تو وہ سب لکھے ہوئے ہوں گے دوسرے خود انسان کے اعضا بھی گواہی دیں گے یا جو عذاب تمہیں تمہارے گناہوں کی وجہ سے دیا جائے گا تم اس عذاب کا انکار نہیں کر سکو گے۔ کیوں کہ اعتراف گناہ کے بغیر تمہیں چارہ نہیں ہو گا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت