اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان لوگوں کی قطعًا پرواہ نہ کیجئے، البتہ انھیں دل نشین انداز میں نصیحت کرتے رہیے اور انھیں یہ سمجھائیے کہ اللہ تعالیٰ اپنا رسول بھیجتا ہی اس لیے ہے کہ اس کے حکم کو دل و جان سے تسلیم کیا جائے۔ اس سے معلوم ہواکہ دشمنوں کی سازش کو عفو و درگزر، واعظ و نصیحت اور قول بلیغ کے ذریعے ناکام بنانے کی کوشش کرنی چاہیے۔