فهرس الكتاب

الصفحة 508 من 6346

میت اگر عورت کی ہے تو اس کے خاوند کو نصف ترکہ ملے گا بشرطیکہ میت کی اولاد نہ ہو اور اگر اولاد ہو تو خاوند کو چوتھا حصہ ملے گا۔ اگر میت مرد ہو تو بیوی کو چوتھا حصہ ملے گا بشرطیکہ میت کی اولاد نہ ہو۔ اگر بیویاں زیادہ ہوں تو سب کو چوتھا حصہ ملے گا اور اگر میت کی اولاد بھی ہو خواہ وہ بیوی یا بیویوں سے ہو تو بیویوں یا بیوی کو آٹھواں حصہ ملے گا، قرضہ اور وصیت پوری کرنے کے بعد۔

کلالہ:

کلالہ و ہ شخص ہوتا ہے جس کے نہ والدین ہوں نہ دادا، دادی، اور نہ اولاد اور نہ پوتے پوتیاں، خواہ وہ میت مرد ہو یا عورت۔ اور اس میت کے ایک بہن اور ایک بھائی ہوں تو ہر ایک کو چھٹا حصہ ملے گا اور اگر ایک سے زیادہ بہن بھائی ہوں تو ہر ایک کو تیسرا حصہ ملے گا، باقی پہلی صورت میں 2/3 اور دوسری صورت میں 5/6بچ جائے گا۔ کلالہ باقی حصے کی وصیت کرسکتا ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میراث کی تقسیم میں نہ وصیت میں کسی کو نقصان ہو اور نہ مقروض کا نقصان ہو۔ سب کچھ ادا کرنے کے بعد میراث، حالات اور وارثوں کے مطابق تقسیم ہوگی، وصیت میں ضرر رسانی دوزخ کا مستحق بنادیتی ہے۔ کلالہ اور ضرر رسانی کو یک جا کیوں کہا گیا: عام طور پر ایسے لوگ اپنی جائیداد کو ضائع کردیتے ہیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ میراث کو ضائع نہ کرو۔ بلکہ حق داروں تک ان کا حق پہنچادو۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت