فهرس الكتاب

الصفحة 1989 من 6346

جس طرح مشرکین مثالیں دیتے ہیں کہ بادشاہ سے ملنا ہو یا اس سے کوئی کام ہو تو کوئی براہ راست بادشاہ سے نہیں مل سکتا، اس سے پہلے بادشاہ کے مقربین سے رابطہ کرناپڑتاہے۔ تب کہیں جاکر بادشاہ تک رسائی ہوتی ہے،اسی طرح اللہ کی ذات بھی بہت اعلیٰ اور اونچی ہے اس تک پہنچنے کے لیے ہم ان معبودوں کو ذریعہ بناتے ہیں یا بزرگوں کاوسیلہ پکڑتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا،تم اللہ کو اپنے پر قیاس مت کرو، نہ اس قسم کی مثالیں دو، اس لیے کہ وہ تو واحد ہے اس کی کوئی مثال ہی نہیں ہے، پھر بادشاہ نہ تو عالم الغیب ہے نہ حاضر و ناظر، نہ سمیع وبصیر کہ وہ بغیر کسی ذریعہ کے رعایا کے حالات و ضروریات سے آگاہ ہوجائے جبکہ اللہ تعالیٰ تو ظاہر و باطن اور حاضر و غائب ہر چیز کاعلم رکھتاہے۔ رات کی تاریکیوں میں ہونے والے کاموں کو بھی دیکھتاہے اور ہر ایک کی فریاد سننے پر بھی قادرہے ۔ بھلا ایک انسانی بادشاہ و حاکم کا اللہ تعالیٰ کے ساتھ کیاتقابل و موازنہ ہے؟

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت