فهرس الكتاب

الصفحة 253 من 6346

قرض حسنہ سے مراد اللہ کی راہ میں اور جہاد میں مال خرچ کرنا ہے ۔ پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے اس حقیقت کو واضح کردیا ہے۔ کہ زندگی و موت تو اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے اب رب تعالیٰ پوچھ رہے ہیں کہ کون ہے جو مجھے قرض حسنہ دے یعنی جان کی طرح مال کی قربانی میں بھی تامل نہ کرو اور خالص اللہ کی رضا مندی اور دل کی پوری خوشی سے خرچ کرو۔ رزق کی کشادگی اور کمی بھی اللہ کے اختیار میں ہے اور وہ دونوں طریقوں سے تمہاری آزمائش کرتا ہے اور پھر اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے تو کمی بھی نہیں ہوتی اللہ تعالیٰ اس میں کئی کئی گنا اضافہ کرتا ہے کبھی ظاہری طور پر اور کبھی برکت ڈال کر اور آخرت میں تو یقینا اس میں اضافہ حیران کن ہوگا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: '' کون ہے جو ایسے اللہ کو قرض دے جو نہ مفلس ہے نہ ظالم۔'' (مسلم: ۱۷۱/۷۵۸)

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت