فهرس الكتاب

الصفحة 4352 من 6346

یعنی اگر کوئی برائی اور زیادتی کا بدلہ لینا ہی چاہے تو اتنا ہی لے جتنی اس پر زیادتی ہوئی ہے جیسا کہ سورہ بقرہ (۱۹۴) میں ارشاد فرمایا کہ: {فَمَنِ اعْتَدٰى عَلَيْكُمْ فَاعْتَدُوْا عَلَيْهِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدٰى عَلَيْكُمْ} ''جو تم پر زیادتی کرے تم بھی اس پر اسی کی مثل زیادتی کرو جو تم پر کی ہے۔ لیکن فضیلت اسی میں ہے کہ عفو و درگذر کیا جائے۔ سورہ المائدہ (۴۵) میں ارشاد فرمایا کہ: {الْجُرُوْحَ قِصَاصٌ فَمَنْ تَصَدَّقَ بِهٖ فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَّهٗ} خاص زخموں کا بھی بدلہ ہے۔ پھر اسے معاف کر دے تو اس کے لیے کفارہ ہو جائے گا۔

ایک حدیث میں آتا ہے کہ درگزر کرنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ بندے کی عزت اور بڑھا دیتا ہے۔ (مسلم: ۲۰۰۰)

اللہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا:

یعنی اگر کوئی بدلہ لینے میں زیادتی کرے گا تو وہ مظلوم ہونے کی بجائے خود ظالم بن جائے گا۔ اور اللہ تعالیٰ ظالموں کو کبھی پسند نہیں کرتا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت