ان آیات میں آسمان و زمین کی ملکیت و حاکمیت وعدہ الٰہی برحق، زندگی اور موت پر اس کا اختیار اور سب اس کے حضور حاضر ہونے کا بیان ہے۔ جس سے مقصود گزشتہ باتوں ہی تائید و توضیح ہے کہ جو ذات اتنے اختیارات کی مالک ہے۔ اس کی گرفت سے بچ کر کوئی کہاں جا سکتا ہے؟ اور اس نے حساب کتاب کے لیے ایک دن مقرر کیا ہوا ہے اسے کون ٹال سکتا ہے۔ یقینا اللہ کا وعدہ سچا ہے وہ ایک دن ضرور آئے گا اور ہر نیک و بد کو اُس کے عملوں کے مطابق جزا و سز دی جائے گی۔