فهرس الكتاب

الصفحة 4858 من 6346

یعنی تمہارے یہ پتھر کے بت صرف پتھر ہی ہیں نہ یہ خدایا دیوتا یا دیویاں ہیں نہ ہی انہیں کچھ تصرف اور اختیار حاصل ہے۔ تم نے اپنے طور پر ایک عقیدہ بنا لیا۔ پھر اس پر جم گئے اور تمہارے اس وہم و قیاس کے علاوہ ان کی خدائی کی کوئی بنیاد نہیں۔ اللہ نے کسی کتاب میں ان کو اپنا یا اپنے اختیارات میں شریک قرار نہیں دیا۔ اور تمہارے اس وہم و قیاس کی اصل وجہ ہی یہی کچھ ہے کہ تمہارا دل یہ چاہتا ہے جو پیکر محسوس کی شکل میں تمہارے سامنے ہوں اور تم ان پر نذریں نیازیں چڑھا کر یہ یقین کر لو۔ کہ تمہارے سارے کام انہی نذروں نیازوں اور دیوی دیوتاؤں کے طفیل سیدھے ہو رہے ہیں۔ علاوہ ازیں اللہ کے ہاں یہ تمہاری سفارش بھی کرنے والے ہیں۔ تمہیں ایسا معبود گوارا نہیں جو تم پر حلال و حرام کی پابندیاں لگائے اور تمھیں اوامر و نواہی کے شکنجے میں کس کر تمہارا امتحان بھی کرے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت