فهرس الكتاب

الصفحة 1215 من 6346

قریش جب مکہ سے نکلے تو انھیں اپنے حریف بنو کنانہ سے خطرہ تھا کہ کہیں وہ مسلمانوں کی حمایت کرکے ہمارے لیے خطرہ، یا شکست کا باعث نہ بن جائیں۔ چنانچہ شیطان بنو کنانہ کے ایک سردار سراقہ بن مالک کی صورت بناکر آیا اور ابوجہل سے کہنے لگا کہ آج کے دن تم پر کوئی غالب نہیں آسکتا اور میں بھی تمہارے ساتھ ہوں۔ پھر جب میدان کا راز گرم ہوا، اور اس نے مسلمانوں کی مدد کے لیے فرشتے اترتے دیکھ لیے تو وہاں سے کھسکنے لگا، ابوجہل نے کہا عین مشکل کے وقت اب تم کہاں جارہے ہو، کہنے لگا جو کچھ مجھے نظر آرہا ہے وہ تم نہیں دیکھ سکتے۔ اللہ کا خوف تو اس کے دل میں کیا ہونا تھا تاہم اسے یقین ہوگیا تھا کہ مسلمانوں کو اللہ کی خاص مدد حاصل ہے۔ مشرکین ان کے مقابلہ میں نہیں ٹھہر سکیں گے۔ قرآن میں ہے شیطان انسان کو کفر کا حکم دیتا ہے پھر جب وہ کفر کر چکتا ہے تو یہی کہنے لگتا ہے کہ میں تم سے بیزار ہوں میں رب العالمین سے ڈرتا ہوں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت