فهرس الكتاب

الصفحة 3954 من 6346

قرآن نے نبیوں اور رسولوں کا ذکر کر کے، ان کے لیے اکثر جگہ یہ الفاظ استعمال کیے ہیں کہ وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھا۔ جس کے دو مقصد ہیں۔ ایک ان کے اخلاق و کردار کی رفعت کا اظہار جو ایمان کا لازمی جزو ہے تاکہ ان لوگوں کی تردید ہو جائے جو بہت سے پیغمبروں کے بارے میں اخلاقی کمزوریوں کا اثبات کرتے ہیں جیسے تورات اور انجیل کے موجودہ نسخوں میں متعدد پیغمبروں کے بارے میں ایسے من گھڑت قصے کہانیاں درج ہیں۔ دوسرا مقصد ان لوگوں کی تردید ہے جو بعض انبیا کی شان میں غلو کر کے ان میں الٰہی صفات و اختیارات ثابت کرتے ہیں۔ یعنی وہ پیغمبر ضرور تھے لیکن تھے بہرحال اللہ کے بندے اور اس کے غلام نہ کہ الٰہ یا اس کے جز یا اس کے شریک۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت