فهرس الكتاب

الصفحة 2140 من 6346

صداقت رسالت پر اللہ کی گواہی:

آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ میں اپنی سچائی پر اور گواہ کیوں ڈھونڈوں؟ اللہ کی گواہی کا فی ہے میں اگر اس کی پاک ذات پر کوئی تہمت باندھتا ہوں تو وہ آپ مجھ سے انتقام لے گا، چنانچہ ارشاد ہے:

{وَ لَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْاَقَاوِيْل۔ لَاَخَذْنَا مِنْهُ بِالْيَمِيْنِ۔ ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِيْنَ۔ فَمَا مِنْكُمْ مِّنْ اَحَدٍ عَنْهُ حٰجِزِيْنَ} (الحاقۃ: ۴۲۔ ۴۷)

''اگر یہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم زبردستی کوئی بات ہمارے سر چپکا دیتا تو ہم اس کا داہنا ہاتھ پکڑ کر اس کی گردن اُڑا دیتے اور ہمیں اس سے کوئی نہ روک سکتا۔''

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ کسی بندے کا حال اللہ سے مخفی نہیں وہ انعام و احسان ہدایت اور لطف کے قابل لوگوں اور گمراہی اور بدبختی کے قابل لوگوں کو بخوبی جانتا ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت