بعض نے اس سے خیبر کی زمین مراد لی ہے کیوں کہ اس کے بعد ہی ۴ ہجری میں صلح حدیبیہ کے بعد مسلمانوں نے خیبر فتح کیا ہے۔ بعض نے کہا کہ مکہ مراد ہے۔ اور بعض نے ارض فارس و روم اس کا مصداق قرار دیا ہے، اور بعض کے نزدیک وہ تمام زمینیں مراد ہیں جو قیامت تک مسلمان فتح کریں گے۔ (فتح القدیر)