اس سورت کے آغاز میں اعمال کے لحاظ سے انسان کی جو تین قسمیں بیان کی گئی تھیں ان کا پھر ذکر کیا جا رہا ہے، یہ ان کی پہلی قسم ہے جنھیں مقربین کے علاوہ سابقین بھی کہا جاتا ہے کیونکہ وہ نیکی کے ہر کام میں آگے آگے ہوتے ہیں اور قبول ایمان میں بھی وہ دوسروں سے سبقت کرتے ہیں اور اپنی اپنی خوبی کی وجہ سے وہ مقربین بارگاہ الٰہی قرار پاتے ہیں۔