فهرس الكتاب

الصفحة 2174 من 6346

اگرچہ ان لوگوں پر گہری نیند کا غلبہ تھا تاہم ان کی آنکھیں کھلی رہتی تھیں جس سے دیکھنے والے کو یہ شبہ پڑتا تھا کہ وہ جاگ رہے ہیں سوئے ہوئے نہیں ہیں۔ پھر غار کے دہانے پر ان کا محافظ کتا بھی ایسے بیٹھا تھا جیسے جاگنے کی حالت میں کتے بیٹھتے ہیں اس کی آنکھیں بھی کھلی تھیں۔ ادھر سے کسی کا گزر ہوتا تو اسے یوں معلوم ہوتا کہ شاید غار کے اندر ڈاکو چھپے بیٹھے ہیں اور یہ کتا ان کی رکھوالی کر رہا ہے۔ اگر کوئی ان کے نزدیک گیا تو یہ کتا کاٹ کھانے کو آئے گا۔ اور اس کی آواز سے اس کا مالک خبردار ہو کر ممکن ہے کہ حملہ کر دے، گویا یہ ایسا وحشت ناک منظر تھا کہ وہاں کوئی نزدیک جانے کی جرأت بھی نہ کرتا تھا اور نیند کے اس طویل عرصے کے دوران ان کی کیفیت بالکل ایسی تھی جیسے عام حالت میں ایک سونے والے کی ہوتی ہے۔ اور وہ حسب ضرورت اور بتقاضائے جسم نیند کی حالت میں دائیں سے بائیں اور بائیں سے دائیں اپنی کروٹ بدلتا ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کتا پالتا ہے تو ہر روز اس کی نیکیوں میں سے ایک قیراط کم ہوتا ہے۔ سوائے بکریوں یا کھیتی کے لیے رکھے کتے یا شکاری کتے کے۔ (بخاری: ۲۳۲۲)

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت