فهرس الكتاب

الصفحة 3692 من 6346

اس وقت ان کی خواہشات کیا ہوں گی یہی کہ ہم ایمان لے آئیں یا ہمیں دوبارہ دنیا میں بھیج دیا جائے یا کوئی ایسی صورت بن جائے کہ ہم عذاب سے بچ سکیں یا ہمارے لیے کوئی سفارش کرنے والا یا ہمارا کوئی مدد گار ہی اُٹھ کھڑا ہو۔ اس دن ان کی اس قسم کی تمام خواہشات کو یوں ختم کر کے انھیں مایوس کر دیا جائے گا اور ان کی خواہشات کے آگے بند باندھ کر انھیں ان سے یکسر اوجھل کر دیا جائے گا۔ (تیسیر القرآن) اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ان سے پہلے کی اُمتوں کے ساتھ بھی یہی کیا گیا۔ وہ بھی موت کے وقت زندگی اور ایمان کی آرزو کرتے رہے جو محض بے سود تھی۔ ارشاد ہے: {فَلَمَّا رَاَوْا بَاْسَنَا قَالُوْا اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَحْدَهٗ وَ كَفَرْنَا بِمَا كُنَّا بِهٖ مُشْرِكِيْنَ۔ فَلَمْ يَكُ يَنْفَعُهُمْ اِيْمَانُهُمْ لَمَّا رَاَوْا بَاْسَنَا} (المومن: ۸۴۔ ۸۵) ''جب انھوں نے ہمارا عذاب دیکھ لیا کہنے لگے: ہم اللہ واحد پر ایمان لائے اور جس جس کو ہم شریک الٰہی بتاتے تھے ان سب سے ہم انکار کرتے ہیں لیکن اس وقت ان کے ایمان نے انھیں کوئی فائدہ نہ دیا جب انھوں نے ہمارا عذاب دیکھ لیا۔'' (ابن کثیر)

ان سے پہلوں میں بھی یہی طریقہ الٰہی جاری رہا ہے کفار نفع سے محروم ہی ہیں یہاں فرمایا کہ یہ دنیا میں زندگی بھر شک و شبہ اور تردد میں ہی رہے اسی وجہ سے عذاب کے دیکھنے کے بعد کا ایمان بے کار ہے۔

الحمد للہ سورہ سبا کی تفسیر مکمل ہوئی ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت