فهرس الكتاب

الصفحة 1502 من 6346

یعنی ان کا حق سے اعراض اور بغض اس انتہا کو پہنچاہوا تھا کہ یہ اسے سننے اور دیکھنے کی طاقت ہی نہیں رکھتے تھے۔ اللہ نے انھیں کان اور آنکھیں تو دی تھیں لیکن انھوں نے ان سے حق کی بات نہ سنی نہ دیکھی۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: {فَمَا اَغْنٰى عَنْهُمْ سَمْعُهُمْ وَ لَا اَبْصَارُهُمْ وَ لَا اَفْـِٕدَتُهُمْ مِّنْ شَيْءٍ} (الاحقاف: ۲۶) ''نہ ان کے کانوں سے انھیں کوئی فائدہ پہنچایا، نہ آنکھوں اور دلوں نے'' کیونکہ وہ حق سننے سے بہرے اور حق دیکھنے سے اندھے بنے رہے۔ جہنم میں جاتے وقت خود ہی کہیں گے: {لَوْ كُنَّا نَسْمَعُ اَوْ نَعْقِلُ مَا كُنَّا فِيْ اَصْحٰبِ السَّعِيْرِ} (الملک: ۱۰) ''اگر سنتے ہوتے، عقل رکھتے ہوتے تو آج دوخی نہ بنتے۔'' دوگناہ عذاب اس لیے دیا جائے گاکہ ایک تو خود سیدھی راہ دیکھنے کی کوشش نہ کرتے اور اگر انھیں کوئی سیدھی راہ بتلانے کی کوشش کرتا تو اس کی بات سننا بھی انھیں گوارا نہ تھی۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: {اَلَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْا عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ زِدْنٰهُمْ عَذَابًا فَوْقَ الْعَذَابِ بِمَا كَانُوْا يُفْسِدُوْنَ} (النحل: ۸۸) ''کافروں کے لیے اور اللہ کی راہ م سے روکنے والوں کے لیے عذاب پر عذاب بڑھتا چلا جائے گا۔ ہر ایک حکم عدولی پر ہر ایک برائی پر، سزا بھگتیں گے۔''

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت