فهرس الكتاب

الصفحة 1631 من 6346

جب حضرت یوسف علیہ السلام نے دیکھا کہ وہ عورت برائی کے ارتکاب پر مصر ہے تو وہ باہر نکلنے کے لیے دروازے کی طرف دوڑے کہ دروازہ کھول کر باہر نکل جائیں اور زلیخا ان کے پیچھے دوڑی اور آپ علیہ السلام کو پیچھے سے کرتا پکڑ کر اپنی طرف گھسیٹا۔ اس کشمکش میں آپ کی قمیض پیچھے سے پھٹ گئی۔ تاہم یوسف علیہ السلام دروازہ کھولنے میں کامیاب ہو گئے اور جب دروازہ کھلا تو دفعتًا عزیز مصر کو دروازے پر کھڑا موجود تھا جس نے بچشم خود دیکھ لیا کہ دونوں ایک بند کمرے سے باہر آ رہے ہیں آگے یوسف علیہ السلام اور پیچھے زلیخا اور یہ کچھ بدکاری کے امکان کا کافی ثبوت تھا یاکم از کم ایسا شبہ ضرور پڑ سکتا تھا۔

زلیخا کا چلتر: خاوند کو دیکھتے ہی خود معصوم بن گئی اور مجرم یوسف علیہ السلام کو قرار دے کر ان کے لیے سزا بھی تجویز کردی۔ حالانکہ صورت حال اس کے برعکس تھی۔ مجرم خود وہی تھی جبکہ یوسف علیہ السلام بالکل بے گناہ اور برائی سے بچنے کے خواہش مند اور اس کے لیے کوشاں تھے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت