فهرس الكتاب

الصفحة 4600 من 6346

اس آیت کے دو مطلب ہیں ایک یہ کہ پہلی قوموں نے سرکشی کی راہ اختیار کی تو اللہ نے مختلف قسم کے عذاب بھیج کر انھیں تباہ و برباد کر دیا تھا۔ جن کے بہت سے آثار ان کے علاقوں میں موجود ہیں۔ نزول قرآن کے وقت بعض تباہ شدہ قوموں کے کھنڈر کے نشان موجود تھے۔ اس لیے انہیں چل پھر کر ان کے عبرت ناک انجام کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ شاید ان کو دیکھ کر ہی یہ ایمان لے آئیں۔ اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے جس طرح کافروں کو دنیا میں طرح طرح کی سزائیں دی ہیں۔ اسی طرح کی سزائیں آخرت میں بھی دے۔ اہل مکہ کو ڈرایا جا رہا ہے۔ کہ تم کفر سے باز نہ آئے تو تمہارے لیے بھی ایسی ہی سزا ہو سکتی ہے۔ اور گزشتہ کافر قوموں کی طرح تمہیں بھی ہلاکت سے دو چار کیا جا سکتا ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت