اسی حالت میں سوئے ہوئے انھیں صدیاں گزر گئیں پھر جب اللہ نے چاہا تو انھیں بیدار کر دیا۔ بیدار ہونے کے بعد ان کا آپس میں پہلا سوال یہ تھا کہ ہمیں اس حالت میں سوئے ہوئے کتنا عرصہ ہوا ہوگا۔ اس مدت کے تعین میں ان میں اختلاف واقع ہو گیا اس لیے کہ ان کے پاس یہ مدت معلوم کرنے کے لیے یا اس کے تعین کرنے کاکوئی ذریعہ نہ تھا سوائے اس کے کہ وہ دھوپ سے وقت کے متعلق کچھ اندازہ کر سکتے۔