فهرس الكتاب

الصفحة 3299 من 6346

جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کے علم میں یہ بات آئی تو آپ تن تنہا چپ چاپ نکل کھڑے ہوئے چونکہ اس سے پہلے کی زندگی کے ایام آپ کے شہزادوں کی طرح گزرے تھے اس لیے سفر بہت کڑامعلوم ہوا ۔ لیکن خوف وہراس کے ساتھ ادھر ادھر دیکھتے سیدھے چلے جارہے تھے اور اللہ تعالیٰ سے دعائیں مانگتے رہے تھے کہ اے اللہ مجھے ان ظالموں سے یعنی فرعونیوں سے نجات دے ۔ مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی راہبری کے واسطے ایک فرشتہ بھیجاتھا جو گھوڑے پر آپ کے پاس آیا اور آپ کو راستہ دکھا گیا۔ (ابن کثیر واللہ اعلم)

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت