فهرس الكتاب

الصفحة 90 من 6346

قرآن پاک کا یہ انداز ہے کہ وہ دوزخ کے ساتھ جنت کا ذکر بھی کرتا ہے یہاں یہ بتاتا جارہا ہے کہ نیک اور بد برابر نہیں ہوسکتے اس لیے جو جیسے اعمال کرے گا ویسا ہی بدلہ پائے گا۔نیک اعمال جنت تک لے جاتے ہیں ۔ اگر ہم برائی چھوڑ دیں، جھوٹ چھوڑ دیں، نافرمانی کو بُرا سمجھیں، اللہ سے معافی مانگیں اور نیکی کے کام کرکے اپنے گناہوں کی تلافی کریں ، تو پھر نیکی کے کام کرنا اچھا لگے گا۔ نیک لوگوں کی صحبت میں رہنے سے اعمال میں تبدیلی آتی ہے۔ خود ساختہ عقیدے بُرائی کی طرف لے جاتے ہیں۔ مثلًا دس بیبیوں کا معجزہ پڑھا دو برکت ہوجائے گی۔

(۲) اسی طرح اولیاء کے قصے سنائے جاتے ہیں تاکہ قرآن کا سچا علم نہ حاصل کریں۔ (۳) کچھ وظائف پڑھ لو معافی مل جائے گی۔ (۴) خوش گمانیوں پر جیتے ہیں سچی دعوت زندگی کے حقائق سامنے لیکر آتی ہے جس کو حاصل کرنے کے لیے دنیا کی آسائشیں چھوڑنا پڑتی ہیں۔ انسان لغو، لایعنی اور بے مقصد کاموں میں مصروف ہوکر برائی کی طرف چلاجاتا ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت