فهرس الكتاب

الصفحة 4419 من 6346

اس دور میں مصر اور فارس کے بادشاہ اپنی امتیازی شان اور خصوصی حیثیت کو نمایاں کرنے کے لیے سونے کے کڑے پہنتے تھے۔ اس طرح قبیلے کے سرداروں کے ہاتھوں میں سونے کے کڑے اور گلے میں سونے کے طوق اور زنجیریں ڈال دی جاتی تھیں جو ان کی سرداری کی علامت سمجھی جاتی تھی۔ اسی اعتبار سے فرعون نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں کہا کہ اگر اس کی کوئی حیثیت اور امتیازی شان ہوتی تو اس کے ہاتھ میں سونے کے کڑے ہونے چاہئیں تھے۔ لیکن یہ محض مفلس ہے۔ اچھا یہ بھی نہیں تو اس کے ساتھ فرشتے ہی کر دیتا جو اس بات کی تصدیق کرتے کہ یہ اللہ کا نبی ہے۔ یا بادشاہوں کی طرح اس کی شان نمایاں کرنے کے لیے اس کے ساتھ ہوتے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت