فهرس الكتاب

الصفحة 1781 من 6346

یعنی زمین وآسمان اور اس کائنات کو حکمت و مصلحت کے ساتھ پیدا کیا ۔ تو انسان کی پیدائش مجھ پر کیا مشکل ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

{اَوَ لَمْ يَرَ الْاِنْسَانُ اَنَّا خَلَقْنٰهُ مِنْ نُّطْفَةٍ فَاِذَا هُوَ خَصِيْمٌ مُّبِيْنٌ۔ وَ ضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَّ نَسِيَ خَلْقَهٗ قَالَ مَنْ يُّحْيِ الْعِظَامَ وَ هِيَ رَمِيْمٌ۔ قُلْ يُحْيِيْهَا الَّذِيْ اَنْشَاَهَا اَوَّلَ مَرَّةٍ وَ هُوَ بِكُلِّ خَلْقٍ عَلِيْمُ} (یٰسٓ: ۷۷۔ ۷۹)

''کیا انسان نے نہیں دیکھاکہ ہم نے اسے نطفے سے پیداکیا پھر وہ جھگڑالو بن بیٹھا ہمارے سامنے مثالیں بیان کرنے لگااور اپنی پیدائش بھول گیا اور کہنے لگاان بوسیدہ ہڈیوں کو کون زندہ کرے گا۔ کہہ دووہی اللہ جس نے انھیں اول بار پیداکیا۔ وہ ہر چیز کی پیدا ئش کا خالق ہے۔''

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت