فهرس الكتاب

الصفحة 433 من 6346

اس آیت سے لوگوں کو تنبیہ کی جارہی ہے کہ جب کوئی قوم اپنے پیغمبر کی تعلیمات پر عمل پیرا رہتی ہے۔ تویہ اس کے عروج کا زمانہ ہوتا ہے۔ اور جب یہی قوم عیش و عشرت، فحاشی اور بے حیائی اور گناہ کے کاموں میں مبتلا ہوجاتی ہے، جن کا نام ان کی زبان میں تہذیب ہوتا ہے۔ تو اس پر بتدریج زوال آنا شروع ہوجاتا ہے یا وہ گناہوں میں بہت زیادہ ڈوب جائے تو ناگہانی قسم کا عذاب انھیں تباہ و برباد کردیتا ہے۔ اور اللہ سے ڈرنے والے لوگ ایسے واقعات سے عبرت بھی حاصل کرتے ہیں اور ہدایت بھی۔ اس مقام پر یہ مضمون اس مناسبت سے آیا ہے کہ مشرکین مکہ، یہود اور اُن کے حلیف اور منافقین میں سے بھی اللہ کی آیات کو جھٹلارہے ہیں اور انھوں نے مسلمانوں سے محاذ آرائی کر رکھی ہے ان سب کا یہی انجام ہونے والا ہے ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت