فهرس الكتاب

الصفحة 775 من 6346

اس آیت سے پتہ چلتا ہے کہ سوال کرنے سے بسا اوقات انسان کفر تک پہنچ جاتا ہے پہلے لوگوں نے بھی احکامات کی جزئیات کو پوچھا پھر انھوں نے اس پر عمل بھی نہ کیا مثلًا سورۂ بقرہ میں گائے ذبح کرنے کا حکم دیا تو کتنے سوال کیے گئے حالانکہ پہلے اگر وہ کوئی گائے بھی ذبح کردیتے تو کوئی حرج نہیں تھا۔ حضرت صالح علیہ السلام سے سوال کیا گیا کہ پہاڑ سے اونٹنی نکال کر دکھاؤ۔ اللہ تعالیٰ نے ایسا کردیا اور اونٹنی کے پانی پینے کا طریقہ بتادیا تو انھوں نے اونٹنی کے پاؤں کاٹ دیے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے فرمائش کہ آسمان سے کھانا نازل کرو۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام سے سوال کہ ہمارے لیے کوئی بادشاہ مقرر کردو۔ جب طالوت کو بادشاہ مقرر کیا تو انھوں نے اُسے قبول نہ کیا۔ ابوہریرہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: ''جو میں چھوڑ دوں یعنی جس کا ذکر نہ کروں تم بھی اسکا ذکر نہ کرو۔ کیونکہ تم سے پہلے لوگ زیادہ سوال کرنے اور اپنے انبیاء سے اختلاف کرنے کی بنا پر تباہ ہوگئے۔ (بخاری: ۷۲۸۸، مسلم: ۱۳۳۷)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت