فهرس الكتاب

الصفحة 231 من 6346

یہودیوں کا خیال تھا کہ اگر عورت کو پیٹ کے بل لیٹا کر صحبت کی جائے تو بچہ بھینگا پیدا ہوتا ہے اس کی تردید میں یہ آیت نازل ہوئی۔

ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور کہنے لگے کہ میں ہلاک ہوگیا آپ نے پوچھا تجھے کس چیز نے ہلاک کیا؟ کہنے لگے ''میں نے آج اپنی سواری پھیرلی'' آپ نے کچھ جواب نہ دیا تا آنکہ آپ پر یہ آیت نازل ہوئی پھر آپ نے فرمایا آگے سے صحبت کرو یا پیچھے سے مگر دبر اور حیض کی حالت میں مجامعت نہ کرو۔'' (ابن ابی شیبہ: ۳/۵۱۷)

گویا اس آیت میں بیوی کو کھیتی سے تشبیہ دے کر یہ واضح کردیا کہ نطفہ جو بیج کی طرح ہے صرف سامنے (فرج) میں ہی ڈالا جائے خواہ کسی بھی صورت میں ڈالا جائے لیٹ کر، بیٹھ کر، پیچھے سے بہر حال فرج میں ہی ڈالا جائے اور پیداوار یعنی اولاد حاصل کرنے کی غرض سے ڈالا جائے۔

اپنے لیے نیک اعمال آگے بھیجو مراد: اپنی اولاد کی تربیت کرو، دین کی فکر کرو، کردار اخلاق، نسلوں کو کیا سکھانا ہے ۔ میاں بیوی کے یہ مقاصد اہم ہونے چاہئیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت