فهرس الكتاب

الصفحة 5282 من 6346

عائلی قوانین:

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے كہ عدت والی عورتوں كی عدت جب پوری ہونے كے قریب پہنچ جائے تو ان كے خاوندوں كو چاہیے كہ وہ دو باتوں میں سے ایك كر لیں یا تو انھیں بھلائی كے ساتھ اور سلوك كے ساتھ اپنے ہی نكاح میں روك لیں۔ یعنی طلاق جو دی تھی اس سے رجوع كر كے باقاعدہ اس كے ساتھ بود وباش ركھیں یا انہیں طلاق دے دیں، لیكن برا بھلا كہے بغیر، گالی گلوچ دئیے بغیر، اچھائی اور خوبصورتی كے ساتھ (یہ یاد رہے كہ رجعت كا اختیار اس وقت ہے جب ایك یا دو طلاق ہوئی ہوں) پھر فرمایا: اگر رجعت كا ارادہ كرو تو اس پر دو عادل مسلمان گواہ ركھ لو۔

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے دریافت كیا گیا كہ ایك شخص اپنی بیوی كو طلاق دیتا ہے پھر اس سے رجوع كرتا ہے، نہ طلاق پر گواہ ركھتا ہے اور نہ رجعت پر، تو آپ نے فرمایا كہ اس نے خلاف سنت طلاق دی۔ اور خلاف سنت رجوع كیا، طلاق پر بھی گواہ ركھنا چاہیے اور رجعت پر بھی، اب دوبارہ ایسا نہ كرنا۔ (ابوداود: ۲۱۸۶)

جو اللہ سے ڈرتا ہے:

یعنی جو شخص احكام خدا بجا لائے، اس كی حرام كردہ چیزوں سے پرہیز كرے اللہ تعالیٰ اس كے لیے مخلصی پیدا كر دیتا ہے یعنی شدائد اور آزمائشوں سے نكلنے كی سبیل پیدا كر دے گا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت