فهرس الكتاب

الصفحة 772 من 6346

یعنی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ذمہ داری تو صرف اللہ کے احکام پہنچا دینے تک ہے آگے ان احکام کی ذمہ داری تم پر ہے۔ اگر تم نافرمانی کرو گے تو رسول صلی اللہ علیہ وسلم تمہاری اس نافرمانی سے بری الذمہ ہے اور اللہ تمہارے ظاہری اعمال و اقوال اور باطنی خیالات تک سے واقف ہے۔ انسان اچھے اعمال ظاہر کرتا ہے بُرے چھپاتا ہے اللہ چھپا ہوا اور ظاہر سب جانتا ہے۔ سورۂ انعام میں ارشاد ہے کہ: وہی ایک اللہ آسمانوں میں بھی ہے اور زمین میں بھی اور تمہارے چھپے اور ظاہر کو بھی جانتا ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت