فهرس الكتاب

الصفحة 1693 من 6346

اسی یقین کی بنا پر آپ نے اپنے بیٹوں سے کہا کہ جاؤ یوسف علیہ السلام اور اس کے بھائی دونوں کے لیے کوشش کرو کہ وہ ہمیں مل جائیں تیرے بیٹے کا نام اس لیے نہیں لیا کہ وہ خود اس غرض سے وہاں ٹکا ہوا تھا کہ بنیامین کے حالات پر نگہداشت رکھے اور جب بھی کوئی رہائی کی صورت ممکن ہو اسے بروئے کار لائے اور انھیں تاکید کی اللہ کی رحمت سے نااُمیدنہ ہونا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: {وَ مَنْ يَّقْنَطُ مِنْ رَّحْمَةِ رَبِّهٖ اِلَّا الضَّآلُّوْنَ} (الحجر: ۵۶) ''گمراہ لوگ ہی اللہ کی رحمت سے نااُمید ہوتے ہیں۔'' اس کا مطلب یہ ہے کہ اہل ایمان کو سخت سے سخت حالات میں بھی صبر و رضا اور اللہ کی رحمت واسعہ کی اُمید کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت