(ازفۃ) قیامت کا ایک صفاتی نام ہے۔ اور (ازف) میں وقت کی تنگی کا مفہوم پایا جاتا ہے۔ یعنی یہ نہ سمجھو کہ قیامت کی گھڑی ابھی بہت دور ہے۔ اور سوچنے سمجھنے کے لیے ابھی بہت وقت پڑا ہے۔ انسان کو تو ایک پل کی بھی خبر نہیں اور جس کو موت آ گئی بس اس کی قیامت تو اسی وقت قائم ہو گئی۔