فهرس الكتاب

الصفحة 199 من 6346

فتنہ سے مراد مشرکین مکہ کی ہر وہ حرکت ہے جو انھوں نے دین اسلام کو روکنے کی خاطر کی مثلًا مسلمانوں پر ظلم و ستم اور جبر و استعداد ۔ دین اور نظریہ کی بنیاد پر تشدد کرنا اور مسلمانوں كو اسلامی نظام زندگی سے دور کرنا، بے حیائی کے ذریعے اخلاق خراب کرنا۔ لوگوں کو گمراہ کرنا کہ اللہ کا کلام نہ پڑھیں۔ دوبارہ کفر پر مجبور کرنا اور اگر وہ ہجرت کرجائیں تو ان کے مال اور جائیدادیں غصب کرلینا یہ سب باتیں فتنہ میں شامل ہیں ان سب باتوں کے سد باب کے لیے جہاد کرنا ضروری ہے۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم بے حیا ء ہوجاؤ تو پھر جو چاہے کرلو۔ (بخاری: ۳۴۸۴)

حدودمکہ:

حدود مكہ كو حرم كہتے ہیں اور حرم میں قتال منع ہے لیکن اگر کفار اس کی حرمت کا خیال نہ رکھیں اور تم سے لڑیں تو تمہیں بھی ان سے لڑنے کی اجازت ہے۔ پھر جو لوگ اپنی شرارتوں سے باز آجائیں اور جزیہ دینا قبول کرلیں تو ان پر تمہیں ہاتھ نہ اٹھانا چاہیے مگر اس کا ہرگز مطلب یہ نہیں کہ وہ اپنے عقائد و دین یا مذہب سے مجبورًا اسلام قبول کرلیں اسلام قبول کرنے کے لیے کسی کو مجبور نہیں کیا جاسکتا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت