فهرس الكتاب

الصفحة 274 من 6346

اسی ریاکاری کے نقصانات کو واضح کرنے کے لیے اور اس سے بچنے کے لیے مزید مثال دی جارہی ہے۔ جیسے ایک شخص کا باغ ہو جس میں طرح طرح کے پھل ہوں یعنی بھرپور آمدنی کی امید ہو وہ شخص بوڑھا ہوجائے اور اس کے چھوٹے چھوٹے بچے ہوں۔ بوڑھا شخص محنت مشقت کرنے کے قابل نہ رہا ہو اور چھوٹے بچے بھی مدد تو کیا اپنا بوجھ بھی نہ اٹھا سکتے ہوں۔ اسی حالت میں تندو تیز ہوائیں چلیں اور اس کا سارا باغ جل جائے اب نہ وہ خود دوبارہ باغ کو آباد کرنے کے قابل ہو اور نہ اس کی اولاد یہی حال ان ریاکار خرچ کرنیوالوں کا قیامت کے دن ہوگا ۔ نفاق اور ریاکاری کی وجہ سے ان کی سارے اعمال اکارت چلے جائیں گے جب کہ وہاں نیکیوں کی شدید ضرورت ہوگی۔ اور دوبارہ اعمال خیر کرنے کی مہلت و فرصت نہیں ہوگی۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کیا تم چاہتے ہو کہ تمہارا یہی حال ہو۔

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس مثال کو ان مال دار لوگوں سے متعلق قراردیا ہے جو ساری عمر نیکیاں کرتے ہیں اور آخر عمر میں شیطان کے جال میں پھنس کر اللہ کے نافرمان ہوجاتے ہیں جس سے عمر بھر کی نیکیاں برباد ہوجاتی ہیں۔ (بخاری: ۴۵۳۸)

صدقہ ریاکاری سے، جتلانے سے، ایذا دینے سے جل جائے گا جب كہ جذبہ خیر کے ساتھ، دل کے جھکا ؤ کے ساتھ، دو گنا پھل ملے گا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت