فهرس الكتاب

الصفحة 588 من 6346

مذکورہ آیت میں قتل خطا کے احکامات کو بیان کیا گیا ہے اور قتل خطا یہ ہے کہ نیت اور ارادہ قتل کا نہ ہو مگر غلطی سے قتل ہوجائے قتل خطا کے اسباب کئی ہوسکتے ہیں۔ مثلًا تیریا پتھر مارا تو شکار کو تھا اور وہ کسی مسلمان کو لگ گیا، اندھی گولی سے قتل، لڑائی وغیرہ میں مسلمان کو کافر سمجھ کر قتل کر دیا۔ غرض کئی وجوہات ہوسکتی ہیں۔ جن میں ارادہ شامل نہ ہو۔ ایسے قتل خطا کا کفارہ اس طرح ادا کرنا ہوگا۔ اگر مقتول کے وارث مسلمان ہیں تو ایک مومن غلام (خواہ مرد ہویا عورت) آزاد کرنا ہوگا اور مقتول کے وارثوں کو خون بہا بھی ادا کرنا ہوگا۔ خون بہا سو اونٹ یا اس کے برابر قیمت ہے جو ورثا کو ادا کرنی ہوگی، معاف بھی کرسکتے ہیں۔ اگر قاتل کو آزاد کرنے کے لیے غلام میسر نہ ہو تو متواتر دو ماہ کے روزے بھی رکھنے ہونگے۔ یعنی دیت اور دو ماہ کے روزے۔ اگر مقتول مومن ہو مگر دشمن قبیلہ سے تعلق رکھتا ہو تو اس کا کفارہ صرف ایک مسلمان غلام آزاد کرنا ہے۔ اور اگر غلام میسر نہ آئے تو متواتر دو ماہ کے روزے رکھنے ہونگے، اس کی دیت نہیں ہوگی۔

اگر مومن مقتول کا تعلق کسی معاہد قوم سے ہو تو اس کے وہی احکام ہیں جو پہلی صورت کے ہیں ۔ معافی سے مراد معافی کو صدقہ سے تعبیر کیا گیا ہے مقصد معافی کی ترغیب دینا ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت