فهرس الكتاب

الصفحة 3365 من 6346

یعنی اگر آپ کی قوم قریش اور آپ کے بھائی بند اور رشتہ دار دین کے معاملہ میں آپ کا ساتھ نہیں دے رہے بلکہ مخالفت پر اُترآئے ہیں تو اب نہ ان کو اپنا رشتہ دار سمجھو اور نہ کسی بھی معاملہ میں ان کاساتھ دو یا حمایت کرو۔ آپ کی مدد و حمایت کے اب وہی لوگ مستحق ہیں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لاکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ دے رہے ہیں۔ کافروں کی باتیں، ان کی ایذا رسانی اور ان کی طرف سے تبلیغ و دعوت کی راہ میں رکاوٹیں آپ کو قرآن کی تلاوت اور اس کی تبلیغ سے نہ روک دیں بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پوری تن دہی اور یکسوئی سے رب کی طرف بلانے کاکام کرتے رہیں۔

شرک کرنے والوں میں شامل نہ ہوں:

یہ خطاب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف محض تاکید مزید کے لیے ہے ورنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ شرک کے خلاف ہی جہاد فرما رہے تھے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے شرک کاصدور ناممکن تھا۔ گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خطاب اس لیے کیاگیا کہ دوسروں کو ٹھیک طرح سے تنبیہ ہو جائے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت