یعنی ان کے دل میں کفر و شرک اس طرح بیٹھ گیا ہے کہ اس سے چھٹکارا ہی نہیں ملتا اگر ہم عذاب کو ان پر کچھ مقررہ مدت کے لیے ٹال دیں تو یہ اس کو نہ آنے والا جان کر جلدی آنے کا مطالبہ شروع کر دیتے ہیں، یہاں یہ سمجھانا مقصود ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے تاخیر پر انسان کو غفلت میں مبتلا نہیں ہونا چاہیے اس کی گرفت کسی بھی وقت ہو سکتی ہے۔