فهرس الكتاب

الصفحة 4396 من 6346

وہ قرآن کو جادو اس لحاظ سے کہتے تھے کہ اس کی تعلیم اور اس کی قراءت دل میں اترنے اور تاثیر کے لحاظ سے جادو کا اثر رکھتی تھی۔ اور اس بات سے کفار سخت خطرہ محسوس کر رہے تھے اور اس کا دوسرا پہلو یہ تھا کہ جو شخص قرآن کی اس دعوت کو قبول کر لیتا تھا وہ اپنے سب رشتوں کو چھوڑنا تو گوارا کر لیتا تھا مگر ایمان سے پیچھے ہٹنا کبھی گوارا نہ کْرتا تھا اور کافر اسے اس لیے جادو کہتے تھے کہ یہ تعلیم ایسی ہے جو باپ بیٹے، بہن، بھائی غرض کہ ہر ایک کو ایک دوسرے سے جدا کر دیتی ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت