فهرس الكتاب

الصفحة 148 من 6346

اس آیت کا مفہوم سمجھنے کے لیے یہ جان لینا ضروری ہے کہ یہودیت اپنے موجودہ نظریات و عقائد کے مطابق تیسری اور چوتھی صدی قبل مسیح وجود میں آئی تھی اور عیسائیت اپنے نظریات و عقائد کے مطابق حضرت عیسیٰ کے آسمان پر اٹھائے جانے کے مابعد کی پیداوار ہے اور ان دو قوموں کے عالم خوب جانتے تھے کہ حضرت ابراہیم ، اسماعیل ، اسحاق، یعقوب اور ان کی اولاد یوسف علیہ السلام بھی اس قسم کی یہودیت اور عیسائیت کی پیدائش سے بہت پہلے وفات پاچکے تھے ۔ مگر یہودی علماء نے عوام کے ذہن اس بات پر پختہ کردیے تھے کہ یہ تمام انبیاء یہودی تھے اور نصاریٰ کے قول کے مطابق یہ سب عیسائی تھے۔

اس آیت سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ یہودی ہوں یا عیسائی یا مسلمان نجات اخروی کے لیے انبیاء صالحین پر بھروسہ کرنا عبث یعنی غلط ہے۔ تم اپنے اعمال کے جواب کے خود ذمہ دار ہو اور نیك و بد عمل كی جزا سزا خود ہی بھگتو گے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت