فهرس الكتاب

الصفحة 817 من 6346

حشر کے میدان میں حقیقت سامنے آنے کے بعد بے اصل بے بنیاد عقائد ذہن سے نکل جائیں گے بالآخر یہ حجت یا معذرت پیش کرکے چھٹکارا حاصل کرنے کی کوشش کریں گے کہ ہم تو مشرک ہی نہ تھے۔ لیکن فیصلے کے دن کوئی بہانہ کوئی عذر قبول نہ ہوگا: امام ابن جریر نے بیان کیا ہے ''جب ہم انھیں سوال کی بھٹی میں جھونکیں گے تو دنیا میں انھوں نے جو شرک کیا اس کی معذرت کے لیے یہ کہے بغیر ان کے لیے کوئی چارہ نہ ہوگا۔ کہ ''ہم تو مشرک ہی نہ تھے۔'' وہاں انسانوں کے ہاتھ پیر گواہی دیں گے اور زبانوں پر مہریں لگا دی جائیں گی پھر یہ انکار کس طرح کریں گے اس کا جواب حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے یہ دیا ہے کہ جب مشرکین دیکھیں گے کہ اہل توحید مسلمان جنت میں جارہے ہیں تو یہ باہم مشورہ کرکے اپنے شرک سے ہی انکار کردیں گے تب اللہ تعالیٰ ان کے مونہوں پر مہر لگا دے گا اور ان کے ہاتھ پاؤں جو کچھ انھوں نے کیا ہوگا اس کی گواہی دیں گے اور پھر یہ کوئی بات اللہ سے چھپانے پر قادر نہ ہونگے۔ (ابن کثیر: ۲/ ۲۱۶)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت